اردو نظم

چند اشعار 
از خطیب حیدر 

کیسے مٹا سکو گے ہمیں تم جہان سے 
ہم روز مرتے جیتے ہیں، مولا کی شان سے

تہذیب مٹ نہ جائے کہیں اس جہان سے 
انسان دور ہوگیا شیریں زبان سے

طوفان نے تو راستہ روکا بہت مرا 
میں پار ہوگیا ہوں سبھی امتحان سے

اردو سے دل لگی کا ہی ثمرہ ملا مجھے
خوشبو ہمیشہ آتی ہے میری زبان سے

مانا کے میرے شعر میں ندرت نہیں مگر 
واعظ اثر بھی دور ہے تیرے بیان سے

رہنے کے واسطے کوئی آیا نہیں یہاں
اک دن گذر ہی جائیں گے سب اس جہان سے

جس گھر میں ہوتا رہتا ہے مہمان کا ہجوم
برکت نکل ہی سکتی نہیں اس مکان سے

حیدر وہ بولتے ہیں اگر بولتے رہیں 
ہر گز نہ رشتہ توڑیں گے ہندوستان سے

تبصرے

مشہور اشاعتیں