عاشق خیرالوریٰ ﷺ تو با وضو سجدے میں ہے

محرم الحرام 1446ھ سلام یا حسین علیہ السلام 
پہلا کلام 
دوبارہ ارشاد کے 285 ویں عالمی ردیفی مشاعرے میں کہی گئی 
منقبت

عاشق خیرالوریٰ ﷺ تو با وضو سجدے میں ہے
پاک نانا ﷺ کی طرح وہ ہو بہو سجدے میں ہے

ایسا پہلے تو نہیں دیکھا ہے منظر آنکھ نے
سر ہے نیزے کی بلندی پر لہو سجدے میں ہے

کاٹ رہا تھا سر جو اک مردود تو شبیر نے
 رب سے اپنے کی حسیں اک گفتگو سجدے میں ہے

کربلا کے سارے ہی ذرات رہنا تم گواہ
ریت تپتی پر جبیں ہے ماہ رو سجدے میں ہے

مالک و مختار زم زم اور کوثر کا مگر
تھا پیاسا رب کی مرضی سرخرو سجدے میں ہے

نام لیوا اب نہیں ہے کوئی بھی مردود کا
آج بھی اولاد زہرا چار سو سجدے میں ہے

غم میں میرا ہو رہا ہے دل گرفتہ کربلا
آنکھ تو معصوم میری آب جو سجدے میں ہے

انعام الحق معصوم صابری

تبصرے

مشہور اشاعتیں