بڑا ویرا ن ہے موسم کبھی ملنے چلے آٶ

بڑا ویرا ن ہے موسم کبھی ملنے چلے آٶ
ہر ایک جانب تیرا غم ہے کبھی ملنے چلے آٶ

ہمارا دل کسی گہری جداٸی کے بھنور میں ہے
ہماری آنکھ بھی نام ہے کبھی ملنے چلے آٶ

میرے ہمراہ گر چہ دور تک لوگوں کی رونق ہے
مگر جیسے کوٸی گم ہے کبھی ملنے چلے آٶ

تمہیں تو علم ہے میرے دل وحشی کے زخموں کو
تمہرا وصل مرہم ہے کبھی ملنے چلے آٶ

اندھیری رات کی گہری خموشی اور تنہا دل
دٸیے کی لو بھی مدھم ہے کبھی ملنے چلے آٶ

تمہارے روٹھ کے جانے سے ہم کو ایسا لگتا ہے
مقدر ہم سے برہم ہے کبھی ملنے چلے آٶ

ہواٶں اور پھولوں کی نٸی خوشبو بتاتی ہے
تیرے آنے کا موسم ہے کبھی چلے آٶ

عدیم ہاشمی

تبصرے

مشہور اشاعتیں