جاؤ نہ مجھے چھوڑ کے دلبر نہ ملےگا
جاؤ نہ مجھے چھوڑ کے دلبر نہ ملےگا
ہم سا تجھے محبوب بھی بہتر نہ ملےگا
سچ کے لئے چاہے مجھے تم دار پہ کھینچو
"لیکن مری آنکھوں میں تمہیں ڈر نہ ملےگا"
رشوت کا چلن ہو نہ جہاں ایسا کہیں بھی
اس شہرِ ہوس میں کوئی دفتر نہ ملے گا
وعدہ وفا کا کر کے چلا بھی گیا لیکن
میں جانتا وہ مجھے کہہ کر نہ ملے گا
اعمال تیرے ساتھ میں ہونگے دمِ رخصت
دو گز زمیں ملی تو ملی زر نہ ملے گا
جاتے ہو تو جاؤ مگر یہ سوچ لو تم بھی
آؤگے تو پھر میل کا پتھر نہ ملے گا
بننے لگے ہو تم بھی قمرؔ سرمد و منصور
اس جسم کے اوپر تمہیں بھی سر نہ ملےگا
قمرِ عالم قمرؔ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں