چاہت میں تیری خود کو میں ہلکان کروں گا

چاہت میں تیری خود کو میں ہلکان کروں گا 
اس طرح تجھے پیار میری جان کروں گا
تجھ پر ہی فدا دل یہ جگر جان کروں گا 
خواہش میں کروں گا تیرا ارمان کروں گا
چاہوں گا تجھے اور میری چاہ کے بدلے
تجھ پر تو نہیں خود پہ ہی احسان کروں گا
دیکھوں جو تجھے آنکھ کو مل جائے گی راحت 
اس دل کے سکوں کا تجھے سامان کروں گا
مانا کہ محبت ہے خسارے کی تجارت
تجھسا جو ملے یار تو نقصان کروں گا
تو میری طبیعت سے مری جان ہے واقف
میں خود کے لیے تجھ کو نگہبان کروں گا
✍️ سیف ضیاء اعظمی

تبصرے

مشہور اشاعتیں